Sunday, July 1, 2018

Sura: Al - Anaam (Verse: 137)


Sura: Al - Anaam (Verse: 137)

اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنما بنا دیا ہے (*)تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں(**) اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں(***) اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے، لہٰذا انہیں چھوڑ دو کہ اپنی افترا پرداز یوں میں لگے رہیں(****) ﴿۱۳۷﴾ 

TRANSLITERATION:
wa-ka-dhālika zayyana li-kathīrin mina l-mushrikīna qatla ʾawlādihim shurakāʾuhum li-yurdūhum wa-li-yalbisū ʿalayhim dīnahum wa-law shāʾa llāhu mā faʿalūhu fa-dharhum wa-mā yaftarūna

TRANSLATION:
Thus have their (so-called) partners (of Allah) made the killing of their children to seem fair unto many of the idolaters, that they may ruin them and make their faith obscure for them. Had Allah willed (it otherwise), they had not done so. So leave them alone with their devices. ﴾137﴿ 

(*)
یہاں”شریکوں“ کا لفظ ایک دُوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے جو اُوپر کے معنی سےمختلف ہے۔ اوپر کی آیت میں جنھیں ”شریک“ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا تھا وہ ان کے معبُود تھے جن کی برکت یا سفارش یا توسّط کو یہ لوگ نعمت کے حصُول میں مددگار سمجھتے تھے اور شکرِ نعمت کے استحقاق میں انھیں خدا کے ساتھ حصّہ دار بناتے تھے۔ بخلاف اس کے اس آیت میں ”شریک“ سے مراد وہ انسان اور شیطان ہیں جنھوں نے قتلِ اولاد کو ان لوگوں کی نگاہ میں ایک جائز اور پسندیدہ فعل بنا دیا تھا۔ انھیں شریک کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے نقطۂ نظر سے جس طرح پرستش کا مستحق تنہا اللہ تعالیٰ ہے ، اسی طرح بندوں کے لیے قانون بنانے اور جائز و ناجائز کی حدیں مقرر کرنے کا حق دار بھی صرف اللہ ہے۔ لہٰذا جس طرح کسی دُوسرے کے آگے پرستش کے افعال میں سے کوئی فعل کرنا اسے خدا کا شریک بنانے کا ہم معنی ہے، اسی طرح کسی کے خود ساختہ قانون کو برحق سمجھتے ہوئے اس کی پابندی کرنا اور اس کے مقرر کیے ہوئے حُدُود کو واجب الاطاعت ماننا بھی اسے خدائی میں اللہ کا شریک قرار دینے کا ہم معنی ہے۔ یہ دونوں افعال بہرحال شریک ہیں، خواہ اُن کا مرتکب ان ہستیوں کو زبان سے الٰہ اور ربّ کہے یا نہ کہے جن کے آگے وہ نذر و نیاز پیش کرتا ہے یا ج ن کے مقرر کیے ہوئے قانون کو واجب الاطاعت مانتا ہے۔
قتل ِ اولاد کی تین صُورتیں اہلِ عرب میں رائج تھیں اور قرآن میں تینوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
(۱) لڑکیوں کا قتل، اس خیال سے کہ کوئی ان کا داماد نہ بنے، یا قبائلی لڑائیوں میں وہ دُشمن کے ہاتھ نہ پڑیں ، یا کسی دُوسرے سبب سے وہ ان کے لیے سبب عار نہ بنیں۔
(۲) بچّوں کا قتل ، اس خیال سے کہ ان کی پرورش کا بار نہ اُٹھایا جا سکے گا اور ذرائع معاش کی کمی کے سبب سے وہ ناقابلِ برداشت بوجھ بن جائیں گے۔
(۳) بچّوں کو اپنے معبُودوں کی خوشنودی کے لیے بھینٹ چڑھانا۔

(**)
یہ ہلاکت کا لفظ نہایت معنی خیز ہے۔ اِس سے مراد اخلاقی ہلاکت بھی ہے کہ جو انسان سنگ دلی اور شقاوت کی اس حد کو پہنچ جائے کہ اپنی اولاد کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنے لگے اس میں جو ہر ِ انسانیت تو درکنار جوہرِ حیوانیت تک باقی نہیں رہتا۔ اور نوعی و قومی ہلاکت بھی کہ قتلِ اولاد کا لازمی نتیجہ نسلوں کا گھٹنا اور آبادی کا کم ہونا ہے، جس سے نوعِ انسانی کو بھی نقصان پہنچتا ہے ، اور وہ قوم بھی تباہی کے گڑھے میں گرتی ہے جو اپنے حامیوں اور اپنے تمدّن کےکارکنوں اور اپنی میراث کے وارثوں کو پیدا نہیں ہونے دیتی، یا پیدا ہوتے ہی خود اپنے ہاتھوں اُنھیں ختم کر ڈالتی ہے۔ اور اس سے مراد انجامی ہلاکت بھی ہے کہ جو شخص معصُوم بچّوں پر یہ ظلم کرتا ہے ، اور جو اپنی انسانیت کو بلکہ اپنی حیوانی فطرت تک کو یوں اُلٹی چھُری سے ذبح کرتا ہے ، اور جو نوعِ انسانی کے ساتھ اور خود اپنی قوم کے ساتھ یہ دُشمنی کرتا ہے ، وہ اپنے آپ کو خدا کے شدید عذاب کا مستحق بناتا ہے۔

(***)
زمانۂ جاہلیّت کے عرب اپنے آپ کو حضرت ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کا پیرو کہتے اور سمجھتے تھے اور اس بنا پر ان کا خیال یہ تھا کہ جس مذہب کا وہ اتباع کر رہے ہیں وہ خدا کا پسندیدہ مذہب ہی ہے ۔ لیکن جو دین ان لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ سےسیکھا تھا اس کے اندر بعد کی صدیوں میں مذہبی پیشوا ، قبائل کے سردار، خاندانوں کے بڑے بوڑھے اور مختلف لوگ طرح طرح کے عقائد اور اعمال اور رسوم کا اضافہ کرتے چلے گئے جِنھیں آنے والی نسلوں نے اصل مذہب کا جزء سمجھا اور عقیدت مندی کے ساتھ ان کی پیروی کی۔ چونکہ روایات میں ، یا تاریخ میں، یا کسی کتاب میں ایسا کوئی ریکارڈ محفوظ نہ تھا جس سے معلوم ہوتا کہ اصل مذہب کیا تھا اور بعد میں کیا چیز یں کس زمانہ میں کس نے کس طرح اضافہ کیں، اس وجہ سے اہلِ عرب کے لیے ان کا پورا دین مشتبہ ہر کر رہ گیا تھا۔ نہ کسی چیز کے متعلق یقین کے ساتھ یہی کہہ سکتے تھے کہ یہ اس اصل دین کا جزء ہے جو خدا کی طرف سے آیا تھا، اور نہ یہی جانتے تھے کہ یہ بدعات اور غلط رسُوم ہیں جو بعد میں لوگوں نے بڑھا دیں۔ اِسی صُورت ِ حال کی ترجمانی اس فقرے میں کی گئی ہے۔

(****)
یعنی اگر اللہ چاہتا کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کر سکتے تھے ، لیکن چونکہ اللہ کی مشیّت یہی تھی کہ جو شخص جس راہ پر جانا چاہتا ہے اسے جانے کا موقع دیا جائے، اسی لیے یہ سب کچھ ہوا۔ پس اگر یہ لوگ تمہارے سمجھانے سے نہیں مانتے اور ان افترا پردازیوں ہی پر انھیں اصرار ہے تو جو کچھ یہ کرنا چاہتے ہیں کرنے دو، ان کے پیچھے پڑنے کی کچھ ضرورت نہیں۔




Saturday, June 30, 2018

Sura: Yunus (Verse: 81-82)

Sura: Yunus (Verse: 81-82)

پھر جب انہوں نے اپنے آنچھر پھینک دیے تو موسیٰؑ نے کہا “یہ جو کچھ تم نے پھینکا ہے یہ جادو ہے(**)، اللہ ابھی اِسے باطل کیے دیتا ہے، مفسدوں کے کام کو اللہ سدھرنے نہیں دیتا ﴿۸۱﴾  اور اللہ اپنے فرمانوں سے حق کو حق کر دکھاتا ہے، خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو" ﴿۸۲﴾ 
TRANSLITERATION:
fa-lammā ʾalqaw qāla mūsā mā jiʾtum bihī s-siḥru ʾinna llāha sa-yubṭiluhū ʾinna llāha lā yuṣliḥu ʿamala l-mufsidīna.
wa-yuḥiqqu llāhu l-ḥaqqa bi-kalimātihī wa-law kariha l-mujrimūna.

TRANSLATION:
And when they had cast, Moses said: That which ye have brought is magic. Lo! Allah will make it vain. Lo! Allah upholdeth not the work of mischief-makers. ﴾81﴿  And Allah will vindicate the Truth by His words, however much the guilty be averse. ﴾82﴿ 
(**)
یعنی جادو وہ نہ تھا جو میں نے دکھا یا تھا ، جادو یہ ہے جو تم دکھا رہے ہو۔

Hadith

Friday, June 29, 2018

Sura: Al - Anaam (Verse: 135)


اے محمدؐ! کہہ دو کہ لوگو! تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو اور میں بھی اپنی جگہ عمل کر رہا ہوں،(**) عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے، بہر حال یہ حقیقت ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے ﴿۱۳۵﴾ 

Say (O Muhammad): O my people! Work according to your power. Lo! I too am working. Thus ye will come to know for which of us will be the happy sequel. Lo! the wrong-doers will not be successful. ﴾135﴿ 

(**)
یعنی اگر میرے سمجھانے سے تم نہیں سمجھے اور اپنی غلط روی سے باز نہیں آتے تو جس راہ پر تم چل رہے ہو چلے جاؤ، اور مجھے اپنی راہ چلنے کے لیے چھوڑ دو، انجام کار جو کچھ ہوگا وہ تمہارے سامنے بھی آجائے گا اور میرے سامنے بھی۔


Thursday, June 28, 2018

Sura: Yunus (Verse: 76-77)


پس جب ہمارے پاس سے حق ان کے سامنے آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے ﴿*﴾  موسیٰؑ نے کہا: “تم حق کو یہ کہتے ہو جبکہ وہ تمہارے سامنے آگیا؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادو گر فلاح نہیں پایا کرتے" ﴿**﴾
And when the Truth from Our presence came unto them, they said: Lo! this is mere magic. ﴾76﴿ Moses said: Speak ye (so) of the Truth when it hath come unto you? Is this magic? Now magicians thrive not. ﴾77﴿ 
(*)
یعنی حضرت موسیٰ ؑ کا پیغام سُن کر وہی کچھ کہا جو کفارِ مکہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سُن کر کہاتھا کہ”یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے“۔(ملاحظہ ہو اسی سورۂ یونس کی دوسری آیت)۔
یہاں سلسلہ ٔ کلام کو نگا ہ میں رکھنے سے یہ بات صریح طور پر ظاہر ہو جاتی ہے کہ حضرت موسیٰ وہارون علیہما السلام بھی دراصل اُسی خدمت پر مامور ہوئے تھے جس پر حضرت نوح اور ان کے بعد کے تمام انبیاء ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ، مامور ہوتے رہے ہیں۔ اس سورہ میں ابتدا سے ایک ہی مضمون چلا آرہا ہے اور وہ یہ کہ صرف اللہ رب العالمین کو اپنا رب اور الٰہ مانو اور یہ تسلیم کرو کہ تم کو اس زندگی کے بعد دوسری زندگی میں اللہ کے سامنے حاضر ہونا اور اپنے عمل کا حساب دینا ہے ۔ پھر جو لوگ پیغمبر کی اس دعوت کو ماننے سے انکار کر رہے تھے ان کو سمجھایا جا رہا ہے کہ نہ صرف تمہاری فلاح کا بلکہ ہمیشہ سے تمام انسانوں کی فلاح کا انحصار اسی ایک بات پر رہا ہے کہ اس عقیدہ ٔ توحید و آخرت کی دعوت کو ، جسے ہر زمانے میں خدا کے پیغبروں نے پیش کیا ہے، قبو ل کیا جائے اور اپنا پورا نظامِ زندگی اسی بنیاد پر قائم کر لیا جائے۔ فلاح صرف انہوں نے پائی جنہوں نے یہ کام کیا، اور جس قوم نے بھی اس سے انکار کیا وہ آخر کار تباہ ہو کر رہی۔ یہی اس سورہ کا مرکزی مضمون ہے، اوراس سیاق میں جب تاریخی نظائر کے طور پر دوسرے انبیاء کا ذکر آیا ہے تو لازمًا اس کے یہی معنی ہیں کہ جو دعوت اس سورہ میں دی گئی ہے وہی ان تمام انبیاء کی دعوت تھی، اور اسی کو لے کر حضرت موسیٰ و ہارون بھی فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس گئے تھے۔ اگر واقعہ وہ ہوتا جو بعض لوگوں نے گمان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ و ہارون کا مشن ایک خاص قوم کو دوسری قوم کی غلامی سے رہا کرانا تھا، تو اِس سیاق و سباق میں اس واقعہ کو تاریخی نظیر کے طور پر پیش کرنا بالکل بے جوڑ ہوتا ۔ اس میں شک نہیں کہ ان دونوں حضرات کے مشن کا ایک جزء یہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل (ایک مسلمان قوم) کو ایک کافر قوم کے تسلط سے (اگر وہ اپنے کفر پر قائم رہے) نجات دلائیں۔ لیکن یہ ایک ضمنی مقصد تھا نہ کہ اصل مقصد بعثت۔ اصل مقصد تو وہی تھا جو قرآن کی رو سے تمام انبیاء کی بعثت کا مقصد رہا ہے اور سورۂ نازعات میں جس کو صاف طور پر بیان بھی کر دیا گیا ہے کہ اِذَھَبْ اِلیٰ فِرْعَوْ نَ اِنَّہُ طَغٰی o فَقُلْ ھَلْ لَّکَ اِلیٰٓ اَنْ تَزَکّٰیo وَاَھْدِیَکَ اِلیٰ رَبِّکَ فَتَخْشٰی۔” فرعون کےپا س جا کیونکہ وہ حدّی بندگی سے گزر گیا ہے اور اس سے کہہ کیا تُو اس کے لیے تیار ہے کہ سدھر جائے، اور میں تجھے تیرے ربّ کی طرف رہنمائی کروں تو تُو اس سے ڈرے“؟ مگر چونکہ فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا اورآخرکار حضرت موسیٰ کو یہی کرنا پڑا کہ اپنی مسلمان قوم کو اس کے تسلّط سے نکال لے جائیں ، اس لیے اس کے مشن کا یہی جزء تاریخ میں نمایاں ہو گیا اور قرآن میں بھی اس کو ویسا ہی نمایا ں کر کے پیش کیا گیا جیسا کہ وہ تاریخ میں فی الواقع ہے۔ جو شخص قرآن کی تفصیلات کو اس کے کلیات سے جدا کر کے دیکھنے کی غلطی نہ کرتا ہو ، بلکہ انہیں کلیات کے تابع کر کے ہی دیکھتا اور سمجھتا ہو، وہ کبھی اس غلط فہمی میں نہیں پڑ سکتا کہ ایک قوم کی رہائی کسی نبی کی بعثت کا اصل مقصد، اور دین حق کی دعوت محض اُس کا ایک ضمنی مقصد ہو سکتی ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو طٰہٰ ، آیات ۴۴ تا ۸۲۔ الزخرف، ۴۶ تا ۵۶۔ المزمل ۱۵ – ۱۶)۔

(**)

”مطلب یہ ہے کہ ظاہر نظر میں جادو اور معجزے کے درمیان جو مشابہت ہوتی ہے اس کی بنا پر تم لوگوں نے بے تکلف اِسے جادو قرار دے دیا ، مگر نادانو! تم نے یہ نہ دیکھا کہ جادوگر کس سیرت و اخلاق کے لوگ ہوتے ہیں اور کن مقاصد کے لیے جادوگری کیا کرتے ہیں۔ کیا کسی جادوگر کا یہی کام ہوتا ہے کہ بے غرض اور بےدھڑک ایک جبار فرمانروا کے دربار میں آئے اور اس کی گمراہی پر سرزنش کرے اور خدا پرستی اور طہارتِ نفس اختیار کرنے کی دعوت دے؟ تمہارے ہاں کوئی جادوگر آیا ہوتا تو پہلے درباریوں کے پاس خوشامدیں کرتا پھرتا کہ ذرا سرکار میں مجھے اپنے کمالات دکھانے کا موقع دلوا دو، پھر جب اُسے دربار میں رسائی نصیب ہوتی تو عام خوشامدیوں سے بھی کچھ بڑھ کر ذلت کے ساتھ سلامیاں بجا لاتا،چیخ چیخ کر درازی عمر و اقبال کی دعائیں دیتا ، بڑی منت سماجت کے ساتھ درخواست کرتا کہ سرکار کچھ فدوی کی کمالات بھی ملاحظہ فرمائیں ، اور جب تم اس کے تماشے دیکھ لیتے تو ہاتھ پھیلا دیتا کہ حضور کچھ انعام مِل جائے۔ 
اس پورے مضمون کو صرف ایک فقرے میں سمیٹ دیا ہے کہ جودو گر فلاح یافتہ نہیں ہوا کرتے۔