Showing posts with label Al - Anaam. Show all posts
Showing posts with label Al - Anaam. Show all posts

Sunday, January 27, 2019

Sura: Al - Anaam (Verse: 134)


Sura: Al - Anaam (Verse: 134)


Sura: Al - Anaam (Verse: 134)

تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقیناً آنے والی ہے (*)اور تم خدا کو عاجز کر دینے کی طاقت نہیں رکھتے ﴿۱۳۴﴾

TRANSLITERATION:

ʾinna mā tūʿadūna la-ʾātin wa-mā ʾantum bi-muʿjizīna.

TRANSLATION:

Indeed what you are promised will surely come, and you will not be able to thwart it.


(*)

یعنی قیامت، جس کے بعد تمام اگلے پچھلے انسان ازسرِ نو زندہ کیے جائیں گے اور اپنے ربّ کے سامنے آخری فیصلے کے لیے پیش ہوں گے۔


Hadith

Thursday, July 12, 2018

Sura: Al - Anaam (Verse: 138)

Sura: Al - Anaam (Verse: 138)

کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں، ا نہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں، حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے(*) پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کر دی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے(**)، اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا کیا ہے(***)، عنقریب اللہ انہیں ان افترا پرداز یوں کا بدلہ دے گا ﴿۱۳۸﴾

TRANSLITERATION:

wa-qālū hādhihī ʾanʿāmun wa-ḥarthun ḥijrun lā yaṭʿamuhā ʾillā man nashāʾu bi-zaʿmihim wa-ʾanʿāmun ḥurrimat ẓuhūruhā wa-ʾanʿāmun lā yadhkurūna sma llāhi ʿalayhā ftirāʾan ʿalayhi sa-yajzīhim bi-mā kānū yaftarūna.


TRANSLATION:

And they say, ‘These cattle and tillage are a taboo: none may eat them except whom we please,’ so they maintain, and there are cattle whose backs are forbidden and cattle over which they do not mention Allah’s Name, fabricating a lie against Him. Soon He will requite them for what they used to fabricate.

(*)

اہلِ عرب کا قاعدہ تھا کہ بعض جانوروں کے متعلق یا بعض کھیتیوں کی پیداوار کے متعلق منت مان لیتے تھے کہ یہ فلاں آستانے یا فلاں حضرت کی نیاز کے لیے مخصُوص ہیں۔ اُس نیاز کو ہر ایک نہ کھا سکتا تھا بلکہ اس کے لیے ان کے ہاں ایک مفصّل ضابطہ تھا جس کی رُوسے مختلف نیازوں کو مختلف قسم کے مخصُوص لوگ ہی کھا سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو نہ صرف مشرکانہ افعال میں شمار کرتا ہے، بلکہ اس پہلو پر بھی تنبیہ فرماتا ہے کہ یہ ضابطہ ان کا خود ساختہ ہے۔ یعنی جس خدا کے رزق میں سے وہ یہ منتیں مانتے اور نیازیں کرتے ہیں اس نے نہ ان منتوں اور نیازوں کا حکم دیا ہے اور نہ ان کے کھانے کے متعلق یہ پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ سب کچھ ان خود سر اور باغی بندوں نے اپنے اختیار سے خود ہی تصنیف کر لیا ہے۔

(**)

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ عرب کے ہاں بعض مخصوص منتوں اور نذروں کے جانور ایسے ہوتے تھے جن پر اخدا کا نام لینا جائز نہ سمجھا جاتا تھا۔ ان پر سوار ہو کر حج کرنا ممنوع تھا ، کیونکہ حج کے لیے لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ کہنا پڑتا تھا ۔ اسی طرح ان کا دودھ دوہتے وقت، یا ان پر سوار ہونے کی حالت میں ، یا ان کو ذبح کرتے ہوئے ، یا ان کو کھانے کے وقت اہتمام کیا جاتا تھا کہ خدا کا نام زبان پر نہ آئے۔

(***)

یعنی قاعدے خدا کے مقرر کیے ہوئے نہیں ہیں، مگر وہ ان کی پابندی یہی سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں کہ انھیں خدا نے مقرر کیا ہے ، اور ایسا سمجھنے کے لیے ان کے پاس خدا کے کسی حکم کی سند نہیں ہے بلکہ صرف یہ سند ہے کہ باپ دادا سے یونہی ہوتا چلا آرہا ہے۔

Hadith

Tuesday, July 3, 2018

Sura: Al - Anaam (Verse: 136)


Sura: Al - Anaam (Verse: 136)

اِن لوگوں (*)نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے، بزعم خود، اور یہ ہمارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے(**) پھر جو حصہ ان کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے(***) کیسے برے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ! ﴿۱۳۶﴾ 

TRANSLITERATION:
wa-jaʿalū li-llāhi mimmā dharaʾa mina l-ḥarthi wa-l-ʾanʿāmi naṣīban fa-qālū hādhā li-llāhi bi-zaʿmihim wa-hādhā li-shurakāʾinā fa-mā kāna li-shurakāʾihim fa-lā yaṣilu ʾilā llāhi wa-mā kāna li-llāhi fa-huwa yaṣilu ʾilā shurakāʾihim sāʾa mā yaḥkumūna.

TRANSLATION:
They assign unto Allah, of the crops and cattle which He created, a portion, and they say: "This is Allah's" - in their make-believe - "and this is for (His) partners in regard to us." Thus that which (they assign) unto His partners in them reacheth, not Allah and that which (they assign) unto Allah goeth to their (so-called) partners. Evil is their ordinance. ﴾136﴿
(*)

اُوپر کا سلسلہ ٔ تقریر اس بات پر تمام ہوا تھا کہ اگر یہ لوگ نصیحت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اپنی جاہلیّت پر اصرار کیے جاتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ اچھا ، تم اپنے طریقہ پر عمل کرتے رہو اور میں اپنے طریقہ پر عمل کروں گا، قیامت ایک دن ضرور آنی ہے ، اس وقت تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ اس روش کا کیا انجام ہوتا ہے، بہر حال یہ خوب سمجھ لو کہ وہاں ظالموں کو فلاح نصیب نہ ہوگی۔ اس کے بعد اب اُس جاہلیّت کی کچھ تشریح کی جاتی ہے جس پر وہ لوگ اصرار کر رہے تھے اور جسے چھوڑنے پر کسی طرح آمادہ نہ ہوتے تھے۔ انھیں بتا یا جارہا ہے کہ تمہارا وہ ”ظلم “ کیا ہے جس پر قائم رہتے ہوئے تم کسی فلاح کی اُمید نہیں کر سکتے۔

(**)
اِس بات کے وہ خود قائل تھے کہ زمین اللہ کی ہے اور کھیتیاں وہی اُگاتا ہے۔ نیز اُن جانوروں کا خالق بھی اللہ ہی ہے جن سے وہ اپنی زندگی میں خدمت لیتے ہیں۔ لیکن ان کا تصوّر یہ تھا کہ ان پر اللہ کا یہ فضل اُن دیویوں اور دیوتاؤں اور فرشتوں اور جِنّات ، اور آسمانی ستاروں اور بزرگانِ سلف کی ارواح کے طفیل و برکت سے ہے جو ان پر نظر ِ کرم رکھتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنے کھیتوں کی پیداوار اور اپنے جانوروں میں سے دو حصّے نکالتے تھے۔ ایک حِصّہ اللہ کے نام کا، اس شکریہ میں کہ اس نے یہ کھیت اور یہ جانور انھیں بخشے۔ اور دُوسرا حصّہ اپنے قبیلہ اور خاندان کے سرپرست معبُودوں کی نذر و نیاز کا تاکہ اُن کی مہربانیاں ان کے شامِل حال رہیں۔ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ان کے اسی ظلم پر گرفت فرماتا ہے کہ یہ سب مویشی ہمارے پیدا کیے ہوئے اور ہمارے عطا کردہ ہیں، ان میں یہ دُوسروں کی نذر و نیاز کیسی؟ یہ نمک حرامی نہیں تو کیا ہے کہ تم اپنے محسن کے احسان کو، جو اس نے سراسر خود اپنے فضل و کرم سے تم پر کیا ہے ، دُوسروں کی مداخلت اور ان کے توسّط کا نتیجہ قرار دیتے ہو اور شکریہ کے استحقاق میں انھیں اُس کے ساتھ شریک کرتے ہو۔ پھر اشارۃً دُوسری گرفت اس بات پر بھی فرمائی ہے کہ یہ اللہ کا حصّہ جو انھوں نے مقرر کیا ہے یہ بھی بزعمِ خود کر لیا ہے، اپنے شارع خود بن بیٹھے ہیں ، آپ ہی جو حصّہ چاہتے ہیں اللہ کے لیے مقر کر لیتے ہیں اور جو چاہتے ہیں دُوسروں کے لیے طے کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اپنی بخشش کا اصل مالک و مختار خود اللہ ہے اور یہ بات اسی کی شریعت کے مطابق طے ہونی چاہیے کہ اس بخشش میں سے کتنا حصّہ اس کے شکریہ کے لیے نکالا جائے اور باقی میں کون کون حق دار ہیں۔ پس درحقیقت اس خودمختارانہ طریقہ سے جو حصّہ یہ لوگ اپنے زعمِ باطل میں خدا کے لیے نکالتے ہیں اور فقراء و مساکین وغیرہ پر خیرات کرتے ہیں وہ بھی کوئی نیکی نہیں ہے۔ خدا کے ہاں اس کے مقبول ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔

(***)
یہ لطیف طنز ہے اُن کی اس حرکت پر کہ وہ خدا کے نام سے جو حصّہ نکالتے تھے اس میں بھی طرح طرح کی چالبازیاں کر کے کمی کرتے رہتے تھے اور ہر صُورت سے اپنے خود ساختہ شریکوں کا حصّہ بڑھانے کی کوشش کرتے تھے ، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ جو دلچسپی انھیں اپنے ان شریکوں سے ہے وہ خدا سے نہیں ہے ۔ مثلاً جو غلّے یا پھل وغیرہ خدا کے نام پر نکالے جاتے ان میں سے اگر کچھ گِر جاتا تو وہ شریکوں کے حصّہ میں شامل کر دیا جاتا تھا ، اور اگر شریکوں کے حصّہ میں سے گرتا، یا خدا کے حصّے میں مِل جاتا تو اُسے انہی کے حصّہ میں واپس کیا جاتا۔ کھیت کا جو حصّہ شریکوں کی نذر کے لیے مخصُوص کیا جاتا تھا اگر اس میں سے پانی اُس حصّہ کی طرف پُھوٹ بہتا جو خدا کی نذر کے لیے مختص ہوتا تھا تو اس کی ساری پیداوار شریکوں کے حصّہ میں داخل کر دی جاتی تھی ، لیکن اگر اس کے برعکس صُورت پیش آتی تو خدا کے حصّہ میں کوئی اضافہ نہ کیا جاتا۔ اگر کبھی خشک سالی کی وجہ سے نذر و نیاز کا غلّہ خود استعمال کرنے کی ضرورت پیش آجاتی تو خدا کا حصّہ کھالیتے تھے مگر شریکوں کے حصّہ کو ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی بلا نازل نہ ہو جائے۔ اگر کسی وجہ سے شریکوں کے حصّہ میں کچھ کمی آجاتی تو وہ خدا کے حصّہ سے پُوری کی جاتی تھی لیکن خدا کے حصّہ میں کمی ہوتی تو شریکوں کے حصّہ میں سے ایک حبّہ بھی اس میں نہ ڈالا جاتا۔ اس طرزِ عمل پر کوئی نکتہ چینی کرتا تو جواب میں طرح طرح کی دل فریب توجیہیں کی جاتی تھیں ۔ مثلاً کہتے تھے کہ خدا تو غنی ہے، اس کے حصّہ میں سے کچھ کمی بھی ہو جائے تو اُسے کیا پروا ہو سکتی ہے۔ رہے یہ شریک ، تو یہ بندے ہیں ، خدا کی طرح غنی نہیں ہیں، اس لیے ذرا سی کمی بیشی پر بھی ان کے ہاں گرفت ہو جاتی ہے۔
اِن توہّمات کی اصل جڑ کیا تھی، اس کو سمجھنے کے لیے یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ جُہلائے عرب اپنے مال میں سے جو حصّہ خدا کے لیے نکالتے تھے ، وہ فقیروں ، مسکینوں ، مسافروں اور یتیموں وغیرہ کی مدد میں صَرف کیا جاتا تھا، اور جو حصّہ شریکوں کی نذر و نیاز کے لیے نکالتے تھے وہ یا تو براہِ راست مذہبی طبقوں کے پیٹ میں جاتا تھا یا آستانوں پر چڑھاوے کی صُورت میں پیش کیا جاتا اور اس طرح بالواسطہ مجاوروں اور پوجاریوں تک پہنچ جاتا تھا۔ اسی لیے ان خود غرض مذہبی پیشواؤں نے صدیوں کی مسلسل تلقین سے ان جاہلوں کے دل میں یہ بات بٹھائی تھی کہ خدا کے حصّہ میں کمی ہو جائے تو کچھ مضائقہ نہیں ، مگر”خدا کے پیاروں“ کے حصّہ میں کمی نہ ہونی چاہیے بلکہ حتی الامکان کچھ بیشی ہی ہوتی رہے تو بہتر ہے۔

Hadith

Sunday, July 1, 2018

Sura: Al - Anaam (Verse: 137)


Sura: Al - Anaam (Verse: 137)

اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنما بنا دیا ہے (*)تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں(**) اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں(***) اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے، لہٰذا انہیں چھوڑ دو کہ اپنی افترا پرداز یوں میں لگے رہیں(****) ﴿۱۳۷﴾ 

TRANSLITERATION:
wa-ka-dhālika zayyana li-kathīrin mina l-mushrikīna qatla ʾawlādihim shurakāʾuhum li-yurdūhum wa-li-yalbisū ʿalayhim dīnahum wa-law shāʾa llāhu mā faʿalūhu fa-dharhum wa-mā yaftarūna

TRANSLATION:
Thus have their (so-called) partners (of Allah) made the killing of their children to seem fair unto many of the idolaters, that they may ruin them and make their faith obscure for them. Had Allah willed (it otherwise), they had not done so. So leave them alone with their devices. ﴾137﴿ 

(*)
یہاں”شریکوں“ کا لفظ ایک دُوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے جو اُوپر کے معنی سےمختلف ہے۔ اوپر کی آیت میں جنھیں ”شریک“ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا تھا وہ ان کے معبُود تھے جن کی برکت یا سفارش یا توسّط کو یہ لوگ نعمت کے حصُول میں مددگار سمجھتے تھے اور شکرِ نعمت کے استحقاق میں انھیں خدا کے ساتھ حصّہ دار بناتے تھے۔ بخلاف اس کے اس آیت میں ”شریک“ سے مراد وہ انسان اور شیطان ہیں جنھوں نے قتلِ اولاد کو ان لوگوں کی نگاہ میں ایک جائز اور پسندیدہ فعل بنا دیا تھا۔ انھیں شریک کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے نقطۂ نظر سے جس طرح پرستش کا مستحق تنہا اللہ تعالیٰ ہے ، اسی طرح بندوں کے لیے قانون بنانے اور جائز و ناجائز کی حدیں مقرر کرنے کا حق دار بھی صرف اللہ ہے۔ لہٰذا جس طرح کسی دُوسرے کے آگے پرستش کے افعال میں سے کوئی فعل کرنا اسے خدا کا شریک بنانے کا ہم معنی ہے، اسی طرح کسی کے خود ساختہ قانون کو برحق سمجھتے ہوئے اس کی پابندی کرنا اور اس کے مقرر کیے ہوئے حُدُود کو واجب الاطاعت ماننا بھی اسے خدائی میں اللہ کا شریک قرار دینے کا ہم معنی ہے۔ یہ دونوں افعال بہرحال شریک ہیں، خواہ اُن کا مرتکب ان ہستیوں کو زبان سے الٰہ اور ربّ کہے یا نہ کہے جن کے آگے وہ نذر و نیاز پیش کرتا ہے یا ج ن کے مقرر کیے ہوئے قانون کو واجب الاطاعت مانتا ہے۔
قتل ِ اولاد کی تین صُورتیں اہلِ عرب میں رائج تھیں اور قرآن میں تینوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
(۱) لڑکیوں کا قتل، اس خیال سے کہ کوئی ان کا داماد نہ بنے، یا قبائلی لڑائیوں میں وہ دُشمن کے ہاتھ نہ پڑیں ، یا کسی دُوسرے سبب سے وہ ان کے لیے سبب عار نہ بنیں۔
(۲) بچّوں کا قتل ، اس خیال سے کہ ان کی پرورش کا بار نہ اُٹھایا جا سکے گا اور ذرائع معاش کی کمی کے سبب سے وہ ناقابلِ برداشت بوجھ بن جائیں گے۔
(۳) بچّوں کو اپنے معبُودوں کی خوشنودی کے لیے بھینٹ چڑھانا۔

(**)
یہ ہلاکت کا لفظ نہایت معنی خیز ہے۔ اِس سے مراد اخلاقی ہلاکت بھی ہے کہ جو انسان سنگ دلی اور شقاوت کی اس حد کو پہنچ جائے کہ اپنی اولاد کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنے لگے اس میں جو ہر ِ انسانیت تو درکنار جوہرِ حیوانیت تک باقی نہیں رہتا۔ اور نوعی و قومی ہلاکت بھی کہ قتلِ اولاد کا لازمی نتیجہ نسلوں کا گھٹنا اور آبادی کا کم ہونا ہے، جس سے نوعِ انسانی کو بھی نقصان پہنچتا ہے ، اور وہ قوم بھی تباہی کے گڑھے میں گرتی ہے جو اپنے حامیوں اور اپنے تمدّن کےکارکنوں اور اپنی میراث کے وارثوں کو پیدا نہیں ہونے دیتی، یا پیدا ہوتے ہی خود اپنے ہاتھوں اُنھیں ختم کر ڈالتی ہے۔ اور اس سے مراد انجامی ہلاکت بھی ہے کہ جو شخص معصُوم بچّوں پر یہ ظلم کرتا ہے ، اور جو اپنی انسانیت کو بلکہ اپنی حیوانی فطرت تک کو یوں اُلٹی چھُری سے ذبح کرتا ہے ، اور جو نوعِ انسانی کے ساتھ اور خود اپنی قوم کے ساتھ یہ دُشمنی کرتا ہے ، وہ اپنے آپ کو خدا کے شدید عذاب کا مستحق بناتا ہے۔

(***)
زمانۂ جاہلیّت کے عرب اپنے آپ کو حضرت ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کا پیرو کہتے اور سمجھتے تھے اور اس بنا پر ان کا خیال یہ تھا کہ جس مذہب کا وہ اتباع کر رہے ہیں وہ خدا کا پسندیدہ مذہب ہی ہے ۔ لیکن جو دین ان لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ سےسیکھا تھا اس کے اندر بعد کی صدیوں میں مذہبی پیشوا ، قبائل کے سردار، خاندانوں کے بڑے بوڑھے اور مختلف لوگ طرح طرح کے عقائد اور اعمال اور رسوم کا اضافہ کرتے چلے گئے جِنھیں آنے والی نسلوں نے اصل مذہب کا جزء سمجھا اور عقیدت مندی کے ساتھ ان کی پیروی کی۔ چونکہ روایات میں ، یا تاریخ میں، یا کسی کتاب میں ایسا کوئی ریکارڈ محفوظ نہ تھا جس سے معلوم ہوتا کہ اصل مذہب کیا تھا اور بعد میں کیا چیز یں کس زمانہ میں کس نے کس طرح اضافہ کیں، اس وجہ سے اہلِ عرب کے لیے ان کا پورا دین مشتبہ ہر کر رہ گیا تھا۔ نہ کسی چیز کے متعلق یقین کے ساتھ یہی کہہ سکتے تھے کہ یہ اس اصل دین کا جزء ہے جو خدا کی طرف سے آیا تھا، اور نہ یہی جانتے تھے کہ یہ بدعات اور غلط رسُوم ہیں جو بعد میں لوگوں نے بڑھا دیں۔ اِسی صُورت ِ حال کی ترجمانی اس فقرے میں کی گئی ہے۔

(****)
یعنی اگر اللہ چاہتا کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کر سکتے تھے ، لیکن چونکہ اللہ کی مشیّت یہی تھی کہ جو شخص جس راہ پر جانا چاہتا ہے اسے جانے کا موقع دیا جائے، اسی لیے یہ سب کچھ ہوا۔ پس اگر یہ لوگ تمہارے سمجھانے سے نہیں مانتے اور ان افترا پردازیوں ہی پر انھیں اصرار ہے تو جو کچھ یہ کرنا چاہتے ہیں کرنے دو، ان کے پیچھے پڑنے کی کچھ ضرورت نہیں۔




Friday, June 29, 2018

Sura: Al - Anaam (Verse: 135)


اے محمدؐ! کہہ دو کہ لوگو! تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو اور میں بھی اپنی جگہ عمل کر رہا ہوں،(**) عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے، بہر حال یہ حقیقت ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے ﴿۱۳۵﴾ 

Say (O Muhammad): O my people! Work according to your power. Lo! I too am working. Thus ye will come to know for which of us will be the happy sequel. Lo! the wrong-doers will not be successful. ﴾135﴿ 

(**)
یعنی اگر میرے سمجھانے سے تم نہیں سمجھے اور اپنی غلط روی سے باز نہیں آتے تو جس راہ پر تم چل رہے ہو چلے جاؤ، اور مجھے اپنی راہ چلنے کے لیے چھوڑ دو، انجام کار جو کچھ ہوگا وہ تمہارے سامنے بھی آجائے گا اور میرے سامنے بھی۔


Thursday, June 28, 2018

Sura: Al - Anaam (Verse: 134)


تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقیناً آنے والی ہے(**) اور تم خدا کو عاجز کر دینے کی طاقت نہیں رکھتے 

Surely, that which you are promised will verily come to pass, and you cannot escape (from the Punishment of Allah)


(**)
یعنی قیامت، جس کے بعد تمام اگلے پچھلے انسان ازسرِ نو زندہ کیے جائیں گے اور اپنے ربّ کے سامنے آخری فیصلے کے لیے پیش ہوں گے۔



Wednesday, June 27, 2018

Sura: Al - Anaam (Verse: 133)



(**)تمہارا رب بے نیاز ہے اور مہربانی اس کا شیوہ ہے اگر و ہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمہاری جگہ دوسرے جن لوگوں کو چاہے لے آئے جس طرح اُس نے تمہیں کچھ اور لوگوں کی 
نسل سے اٹھایا ہے

Thy Lord is self-sufficient, full of Mercy: if it were His will, He could destroy you, and in your place appoint whom He will as your successors, even as He raised you up from the posterity of other people.(133)
(**)
تمہارا رب بے نیاز ہے. یعنی اس کی کوئی غرض تم سے اٹکی ہوئی نہیں ہے، اس کا کوئی مفاد تم سے وابستہ نہیں ہے کہ تمہاری نافرمانی سے اس کا کچھ بگڑ جاتا ہو، یا تمہاری فرماں برداری سے اس کو کوئی فائدہ پہنچ جاتا ہو۔ تم سبمل کر سخت نافرمان بن جاؤ تو اس کی بادشاہی میں ذرہ برابر کمی نہیں کر سکتے ، اور سب کے سب مل کر اس کے مطیعِ فرمان اور عبادت گزار بن جاؤ تو اس کے ملک میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتے۔ وہ نہ تمہاری سلامیوں کا محتاج ہے اور نہ تمہاری نذر و نیاز کا ۔ اپنے بے شمار خزانے تم پر لٹا رہا ہے بغیر ا س کے کہ ان کے بدلہ میں اپنے لیے تم سے کچھ چاہے۔
”مہربانی اس کا شیوہ ہے“۔ یہاں موقع و محل کے لحاظ سے اس فقرے کے دو مفہُوم ہیں۔ ایک یہ کہ تمہارا رب تم کو راہِ راست پر چلنے کی تلقین کرتا ہے اور حقیقت نفس الامری کے خلاف طرزِ عمل اختیار کرنے سے جو منع کرتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری راست روی سے اس کا کوئی فائدہ اور غلط روی سے اس کا کوئی نقصان ہوتا ہے، بلکہ اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ راست روی میں تمہارا اپنا فائدہ اور غلط روی میں تمہارا اپنا نقصان ہے۔ لہٰذا یہ سراسر اس کی مہربانی ہے کہ وہ تمھیں اُس صحیح طرزِ عمل کی تعلیم دیتا ہے جس سے تم بلند مدارج تک ترقی کرنے کے قابل بن سکتے ہو اور اس غلط طرزِ عمل سے روکتا ہے جس کی بدولت تم پست مراتب کی طرف تنزّل کرتے ہو۔ دوسرے یہ کہ تمہارا ربّ سخت گیر نہیں ہے، تم کو سزا دینے میں اُسے کوئِ لُطف نہیں آتا ہے ، وہ تمھیں پکڑنے اور مارنے پر تُلا ہوا نہیں ہے کہ ذرا تم سے قصُور سرزد ہو اور وہ تمہاری خبر لے ڈالے۔ درحقیقت وہ اپنی تمام تمام مخلوقات پر نہایت مہربان ہے، غایت درجہ کے رحم و کرم کے ساتھ خدائی کر رہا ہے، اور یہی اس کا معاملہ انسانوں کے ساتھ بھی ہے۔ اسی لیے وہ تمہارے قصُور پر قصُور معاف کرتا چلا جاتا ہے۔ تم نافرمانیاں کرتے ہو، گناہ کرتے ہو، جرائم کا ارتکاب کرتے ہو، اس کے رزق سے پَل کر بھی اس کے احکام سے منہ موڑتے ہو، مگر وہ حلم اور عفو ہی سے کام لیے جاتا ہےاور تمھیں سنبھلنے اور سمجھنے اور اپنی اصلاح کر لینے کے لیے مُہلت پر مُہلت دیے جاتا ہے۔ ورنہ اگر وہ سخت گیر ہوتا تو اس کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ تمھیں دنیا سے رخصت کر دیتا اور تمہاری جگہ کسی دُوسری قوم کو اُٹھا کھڑا کرتا، یا سارے انسانوں کو ختم کر کے کوئی اور مخلوق پیدا کر دیتا۔